(طلاق کے بعد گھر میں)



           (طلاق کے بعد گھر میں)


 میرے بھائی نے اپنی سمجھداری اور ہمت سے وکیل کے ذریعے ہی بات چیت کر کے بہت جلد مجھے طلاق دلا دی۔ اگر آج میرا بھائی میرے ساتھ کھڑا نہ ہوتا، تو شاید میں اس دلدل سے کبھی نہ نکل پاتی۔ میرے ارمان تو ٹوٹ گئے، لیکن مجھے ایک نئی زندگی مل گئی


ایک تو میری شادی نہیں ھو رھی تھی میں 28 سال کی ھوئی تو قسمت سے شادی ھوئی وہ بھی ایک نا مرد سے میں سوچتی تھی کے شادی کے بعد ایسے کروں گی ویسے کروں گی مگر میری امیدوں پر پانی پھر گیا میں چاہتی تھی کے شوہر میری ٹکا کر بانسری بجائے اور میں بھی ٹکا کر بانسری بجواتی مگر ایسا بلکل نہیں ھوا میں بانسری بجوانے کیلئے ترس گئی لیکن شوہر کے بداخلاقی کی وجہ سے مجھے یہ بانسری بجوانے کا بھوت بھی اتر گیا اور میں مزید ٹیشن میں آگئی 


تو دوستو وقت گزرتے پتا ھی نہیں چلتا کے مجھے طلاق لیئے گھر میں ایک مہنہ ھو گیا میرا زیادہ تر وقت بھائی کے ساتھ گزرتا، سب اپنے اپنے وقت پر اٹھ جاتے تھے میں اور ممی سب سے پہلے اٹھ جاتی تھی اور ناشتہ کھانا گھر کا کام ختم کرتی تو بھائی کے ساتھ ممی کے ساتھ وقت گزرتا اور اسی طرح ایک مہنہ ھو گیا، پاپا تو کسی آفس میں جاب کرتا اور سات بجے چلا جاتا رات کو نو بجے آتا بھائی پڑھنے جاتا اور ایک دو بجے گھر آجاتا میں اپنے گھر میں بہت خوش تھی میں نے پچھلی یادوں کو ڈلیڈ کر دیا  اور ہنسی خوشی رہنے لگی وقت کی اتنی رفتار تھی کے ایک مہنہ ھو گیا ایک دن ممی پاپا کی باتیں سنی کے شاید اب میری شادی نہ ھو، میں سن کر تھوڑی سی مایوس ھو گئی پھر ان باتوں کو بھلا دیا کے پہلے کون سا سُکھ ملا ھے جو اب ملے گا 


ایک دن میں ناشتہ تیار کرنے آئی تو ممی نے کہا جاکر اپنے بھائی کو اٹھاؤ آج اس کا آخری پیپر ھے، تو دوستوں میں بھائی کو اٹھانے روم میں آئی تو کیا دیکھتی ھوں بھائی چڈی پہنے سویا ھے اور چڈی میں بھائی کا دلبر فل ٹائٹ چڈی کو تمبو بنائے کھڑا ھے بھائی کے دلبر کو دیکھنے لگی اور بھائی کے دلبر کو دیکھنے میں مجھے بہت مزہ آرہا تھا اور میرے سارے ارمان جاگ اُٹھے تھے 


میری بلی میں چنگاری پھٹی تو میرے تن بدن میں آگ بھڑک اُٹھی چڈی بہت پتلی تھی بھائی کا دلبر موٹا لمبا صاف نظر آرہا تھا من میں بہت خیال ابھرنے لگے پتا نہیں کیا ھونے والا تھا میرا ہاتھ بھائی کو اُٹھانے کی بجائے بھائی کے دلبر کی طرف بڑھ رہا تھا میں خود کو کنٹرول نہیں کر پا رھی تھی کے اچانک ممی کی آواز آئی مجھے بلا رھی تھی اور میرا خیال ممی کی طرف ھوا اور میرا دلبر کی طرف خیال ہٹ گیا بھائی کو بنا اُٹھائے واپس آگئی ممی بولے اٹھایا بھائی کو میں بولی بھول گئی ممی نے کہا اچھا میں بُلاتی ھوں ممی نے آوازیں دی تو آواز آئی آرہا ھوں کچھ دیر بعد بھائی آیا ناشتہ کر کے چلا گیا 


سارا دن میں سوچتی رھی من میں بہت سے خیال اور سوال جاگ اُٹھے تھے جس کو بیان کرنے کیلئے مجھے الفاظ نہیں مل رھے پھر بھی کوشش کرکے میں بتاتی ھوں کبھی ایسا خیال آتا کے بھائی کا دلبر کتنا موٹا لمبا اور ٹائٹ ھے، میری بلی میں جائے گا تو بہت مزہ آئے گا، کبھی میں خود کو بولتی شرم کر تیرے بھائی کا دلبر ھے دوسرے پل میں کہتی بھائی کا دلبر ھے تو کیا ھوا مگر دلبر لینے کیلئے کیا کروں، خود کو کبھی روکتی کبھی سوچنے لگتی شادی تو اب مشکل ھو لیکن اپنی اس گرمی کا کیا کروں باہر مجھے نکلنے نہیں دیتے اور باہر کرنے کو میرا ویسے بھی دل نہیں مانتا تھا میں سارا دن کشمکش میں رھی خود کو منع بھی کرتی اور طریقہ بھی سوچتی اور اسی طرح میں تاک میں بھی تھی کے کسی طرح دلبر کو ننگا دیکھوں، اور اسی طرح میں بھائی کو اُٹھانے کیلئے دیر نہ کرتی، جب اٹھانے جاتی تو دلبر کھڑا ھوتا میں دلبر کو دیکھ دیکھ کر بنا اُٹھائے باہر آجاتی کچھ دیر بعد پھر جاتی جب ممی ساتھ ھوتی تو ممی آواز دے کر اُٹھا دیتی بھائی کے دلبر کو صبح کے وقت جی بھر کر دیکھتی،


ایک رات بھائی کا دلبر میرے دماغ پر چڑھ گیا اور بہت دیر تک بھائی کے دلبر کے نام کی بلی میں سہلاتی رھی اور فارغ نہ ھونے پر بہت گرم ھو گئی من کر رہا تھا بھائی کے ساتھ جاکر سو جاؤ نید ھی نہیں آرھی تھی میں سوچی جاکر ٹھنڈا پیوں گرمی کم ھو میں روم سے باہر آئی تو ممی کے روم سے ممی کی سیکسی آوازیں آنے لگی میں چونک گئی تن بدن میں آگ لگی میں آرام سے ڈور کھولی کر کیا دیکھی 



پاپاممی دونوں کام میں بیزی ہیں اور  ممی گھوڑی بنی تھی پاپا کام کر رہا تھا بلی سے ببلو نکال کر ڈگی کے کام میں لگ گیا ڈگی سے ببلو نکال کر بلی میں لگ جاتا ممی کی بلی ڈگی کو چاٹنے لگ جاتا ممی بھی ببلو چوسنے لگی جاتی پاپا ممے چوستا دباتا دونوں فل مستی میں تھے یہاں میں تڑپ رھی تھی میں اپنی بلی سہلاتی سب دیکھ رھی تھی مموں کا دباتی ھوئی پوری  کاروائی دیکھی 



پھر صبح بھائی کے دلبر کا دیدار کیا پہلے سے زیادہ اب میں خود کنٹرول سے باہر تھی اور سوچتی بھائی کو منانا کوئی مشکل نہیں ھے لیکن کیسے کام کروں دن بادن میں اب موقعہ ڈھونڈنے لگی کے آخر کیا کیا جائے، 



ایک رات مجھے بھائی کے دلبر کا خواب آگیا بھائی نے بہت کام کیا اور مجھے پیار کیا میری بلی نے پانی چھوڑ دیا میری آنکھ کھل گئی میری چڈی گیلی ھو گئی میں گیلی چڈی کے ساتھ نائٹی پہن کر بھائی کے روم میں آئی بھائی کا کھڑے دلبر کو دیکھ کر میں نے دلبر کو ہاتھ میں لے کر سلوسلو سہلانے لگی من تو کر رہا تھا کے لن باہر نکال کر دیکھو میں لن کو سہلا رھی تھی تو 



اچانک بھائی نیند سے جاگا اور دلبر کو سہلاتی دیکھ لیا میں جلدی سے دلبر کو چھوڑ کر دراز سے کچھ نکالنے لگی کچھ دیر بھائی مجھے دیکھتا رہا میں اگنور کرتی دراز سے کچھ ڈھونڈنے کا بہانا کرنے لگی بھائی پھر سو گیا میری بلی بہت گرم تھی پھر میں باہر آئی اور بہت خوش ھوئی کے چلو دلبر کو ہاتھ میں تو لیا اس کے بعد دوسری بار پھر دلبر کو سپلانے لگی اور بھائی سویا رہا 


تیسرے دن ممی اور پاپا دونوں چاچو کے ہاں دو دن کیلئے جانے والے تھے اور دونوں کو بھائی چھوڑ کر آیا اور اپنے روم میں چلا گیا میں کام کرکے تھک گئی کچھ دیر کرسی پر بیٹھی تھی کے ہانڈی دیکھنے کیلئے کرسی سے کھڑی ھوئی بھائی چڈی میں آیا چڈی میں دلبر فل ٹائٹ کھڑا تھا بھائی نے چڈی سے دلبر نکال کر مجھے دیکھایا بھائی کا ننگا دلبر دیکھ کر میرا منہ کھلا کا 



کھلا رھے گیا میں سمجھ گئی کے آج بھائی میرے سارے ارمان پورے کرے گا بھائی نے کہا باجی کیا خیال ھے میں بولی کس کا بولا باجی تیرا شوہر تو نامرد تھا میں بولی ہاں بولا سوہاگ رات ھوئی کے نہیں میں شرارت سے مسکرا کر بولی نہیں وہ نامرد کیا کر سکتا تھا بولا باجی میں کچھ دنوں سے تمہیں دلبر سے کھیلتی دیکھ رہا تھا مگر ممی پاپا تھے کچھ بول نہیں سکتا تھا مگر آج موقع ھے تو دیکھا دیا میں مسکرانے لگی اور بھائی کو پکڑ کر باھوں میں بھر کر چومنے لگی 




دوستو اس کے آگے کیا ھوا اگر جاننا چاہتے ہیں تو مجھے کمنٹ کریں تاکہ آگے کا حصہ میں آپ سے شیر کر سکوں 

👇









تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

خوبصورت زندگی رنگین راتیں